آیا صوفیا نئی حیثیت سے سب کا خیر مقدم کرے گی، صدر ایردوان

0 293

آیا صوفیا مسجد کو عبادت کے لیے دوبارہ کھولنے کے حوالے سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "آیا صوفیا کے دروازے ہماری تمام مساجد کی طرح سب کے لیے کھلے رہیں گے، چاہے وہ غیر ملکی ہو یا مقامی، مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ انسانیت کا مشترکہ ورثہ آیا صوفیا اپنی نئی حیثیت میں زیادہ پر خلوص اور حقیقی انداز میں سب کا خیر مقدم کرے گی۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے آیا صوفیا مسجد کو عبادت کے لیے دوبارہ کھولنے کے حوالے سے قوم سے خطاب کیا۔

آیا صوفیا کو ایک مرتبہ پھر عبادت کے لیے کھولنے کے حوالے سے صدارتی حکم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "آیا صوفیا کے دروازے ہماری تمام مساجد کی طرح سب کے لیے کھلے رہیں گے، چاہے وہ غیر ملکی ہو یا مقامی، مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ انسانیت کا مشترکہ ورثہ آیا صوفیا اپنی نئی حیثیت میں زیادہ پر خلوص اور حقیقی انداز میں سب کا خیر مقدم کرے گی۔”

"آیا صوفیا کس مقصد کے لیے استعمال ہوگی، یہ ترکی کا اندرونی معاملہ ہے”

صدر ایردوان نے زور دیا کہ "میں سب سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ آیا صوفیا کے حوالے سے ہمارے ملک کے قانونی و عملی اداروں کے فیصلے کا احترام کریں۔ بلاشبہ، ہم اس اس حوالے سے بین الاقوامی منظرنامے پر موجود مختلف آراء کا خیر مقدم کریں گے۔ لیکن آیا صوفیا کس مقصد کے لیے استعمال ہوگی، یہ ترکی کا داخلی معمالہ ہے۔ نئے حکم کے بعد آیا صوفیا کو عبادت کے لیے کھولنا ہمارے ملک کا حق ہے۔ آیا صوفیا کو مسجد میں تبدیل کرنے کا حق جمہوریہ ترکی، اس کے دارالحکومت، اس کی اذان، اس کی زبان، اس کی سرحدوں اور اس کے 81 صوبوں کی طرح اس کے بنیادی حقِ اختیار کے مطابق ہے۔ ہم اس حوالے سے سب کی رائے اور بیانات کا احترام کرتے ہیں، سوائے ان کے جو ہماری آزادی کے خلاف آواز اٹھائیں۔”

"ترکی کا فیصلہ اس کے مقامی قوانین کے مطابق ہے”

صدر ایردوان نےم زید کہا کہ "جس طرح ترکی عبادت گاہوں کے حوالے سے دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، ہم اپنے تاریخی و قانونی حقوق کے حوالے سے دوسروں سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ حق 657 سال پہلے کا ہے، کوئی 50 یا 100 سال پہلے کی بات نہیں۔ اگر آج عقائد و ایمان کے حوالے سے کسی موضوع پر بات ہونی چاہیے تو وہ آیا صوفیا نہیں بلکہ اسلاموفوبیا اور زینوفوبیا ہے جو دنیا کے تمام حصوں میں دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ ترکی کا فیصلہ اس کے مقامی قوانین اور تاریخی حقوق کے عین مطابق ہے۔”

"ہمارے ملک میں اس وقت 435 گرجے اور یہودی عبادت گاہیں عبادت کے لیے کھلی ہیں”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ فتح کے بعد استنبول ایسا شہر بنا کہ جس میں مسلمان، مسیحی اور یہودی امن و سکون کے ساتھ مقیم ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ "آج ملک بھر میں موجود مساجد کے ساتھ ساتھ ہر عقیدے سے تعلق رکھنے والوں کی ہزاروں تاریخی عبادت گاہیں بھی ہیں۔ جہاں بھی کوئی اقلیتی برادری موجود ہے وہاں ان کے گرجے اور عبادت گاہیں کام کر رہی ہیں۔ اس وقت ہمارے ملک میں 435 گرجے اور یہودی عبادت گاہیں عبادت کے لیے کھلی ہیں۔ یہ صورت حال، جو دوسرے ملکوں میں نہیں نظر آتی، اختلاف میں برکت ہے کے ہمارے نظریے کا اظہار ہے۔”

"آیا صوفیا کی بحالی الاقصیٰ کی آزادی کی طرف پہلا قدم ہے”

الاقصیٰ مسجد کوعجائب گھر میں تبدیل کرنے کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے صدر نے زور دیا کہ "آج آیا صوفیا کو نئی زندگی ملی ہے۔ آیا صوفیا کی بحالی الاقصیٰ مسجد کی آزادی کی طرف پہلا قدم ہے۔ آیا صوفیا کی بحالی دنیا بھر کے مسلمانوں کی خواہش کا مظہر ہے۔ آیا صوفیا کی بحالی صرف مسلمانوں ہی کی نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ تمام مظلوموں، بے انصافی کے شکار، پسماندہ اور استحصال کا سامنا کرنے والے لوگوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے۔”

تبصرے
Loading...