آپریشن چشمہ امن سے ترکی نے بلیک میل اور سازشیں کرنے کے منصوبے ختم کردیے

0 517

ضلعی گورنروں سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "وہ جو سالوں تک PKK/YPG کے تحفظ کے لیے داعش کا بہانہ بناتے آئے تھے، اب ملاحظہ کر چکے ہیں کہ دونوں تنظیمیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور یکساں مقاصد رکھتی ہیں۔ یہ بہت تکلیف دہ امر ہے کہ بین الاقوامی برادری اتنے عرصے تک ان دو دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہی۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بڑی ریاستوں نے اس الم ناک کھیل میں ان کی پشت پناہی کی کوشش کی۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے ایوانِ صدر میں ایک ملاقات کے دوران ضلعی گورنروں سے خطاب کیا۔

"امریکا اور روس کے ساتھ معاہدوں کی کامیابی شام سے PKK/YPG اور داعش کے مکمل خاتمے سے مشروط ہے”

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "امریکا اور روس کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی کامیابی PKK/YPG اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی شامی سرزمین پر موجودگی کے مکمل خاتمے سے مشروط ہے جس کا آغاز ہماری سرحدوں سے ہو رہا ہے۔”

دہشت گردی کے خلاف ملک میں اور اپنی سرحدوں سے باہر بھی جدوجدہ جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "چاہے امریکا ہو، روس ہو، شامی حکومت ہو یا کوئی بھی طاقت اگر وہ ہمارے راستے میں کوئی مختلف نام، پرچم یا وردی رکھنے والی دہشت گرد تنظیم لانے کی کوشش کریں گے، تو ہم ایسی کسی بھی سازش کو برداشت نہیں کریں گے۔ اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو معذرت کے ساتھ ہم اپنے ہی راستے سے قدم ہٹانے میں ہچکچاہٹ نہیں دکھائیں گے۔ اور ہم اس راستے پر جانے کی جو قیمت ہمیں ادا کرنا پڑے گی اس کا اندازہ بھی نہیں لگائیں گے۔ یہ کھیل ماضی میں کئی بار کھیلا جا چکا ہے؛ اب پوری دنیا قبول کر چکی ہے کہ PKK اور YPG ایک ہی تنظیم ہیں۔”

جو سالوں سے PKK/YPG کے تحفظ کے لیے داعش کا بہانہ بناتے آئے تھے اب دیکھ چکے ہیں کہ دونوں تنظیمیں دراصل ایک ہی مقصد رکھتی ہیں”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "وہ جو سالوں تک PKK/YPG کے تحفظ کے لیے داعش کا بہانہ بناتے آئے تھے اب ملاحظہ کر چکے ہیں کہ دونوں تنظیمیں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں اور یکساں مقاصد رکھتی ہیں۔ یہ بہت تکلیف دہ امر ہے کہ بین الاقوامی برادری اتنے عرصے تک ان دو دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہی۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بڑی ریاستوں نے اس الم ناک کھیل میں ان کی پشت پناہی کی کوشش کی۔ آپریشن چشمہ امن، جو ترکی نے 9 اکتوبر کو شروع کیا تھا، بلیک میل کرنے اور سازشوں کے اس ڈرامے کو ختم کیا اور سچ کو آشکار کیا۔”

تبصرے
Loading...