صدارتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کام کر لیا گیا ہے، صدر ایردوان

0 1,267

صدر رجب طیب ایردوان نے انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے 18 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدارتی نظام کو مضبوط کرنے اور اس کو بہتر بنانے کے لیے مختلف پہلوؤں پر کام کرنے کا عہد کیا۔

پارٹی اراکین سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "صدارتی نظام کی ترقی اور اس کے مختلف پہلوؤں کو بہتر بنانے کے لیے جامع کام کیا گیا ہے۔”

آق پارٹی نے صدارتی نظام کے بارے میں عوامی رائے جاننے کے لیے ایک جامع شہری سروے لانچ کیا، جسے 2017ء کے ریفرنڈم کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔

صدر نے کانگریس عمل کے موضوع پر بھی بات کی، جو 2023ء کے انتخابات کو پارٹی کو تیار کرے گا۔

"ہمارا ہدف رائے ساز افراد چننے اور اپنے عملے کو اُن کے ذریعے مضبوط بنانا ہے،” ایردوان نے کہا۔

ایردوان نے اعادہ کیا کہ آق پارٹی ملی حرکت پارٹی (MHP) کے ساتھ سیاسی اتحاد برقرار رکھنے کے لیے کام کرے گی۔

24 جون کے پارلیمانی و صدارتی انتخابات سے قبل MHP اور AK پارٹی کے درمیان پیپلز الائنس قائم ہوا تھا۔ اس اتحاد نے پارلیمان میں برتری حاصل کی، جبکہ ان کے صدارتی امیدوار ایردوان نے بھی 52.6 فیصد ووٹ کے ساتھ انتخابات جیتے۔

دونوں جماعتیں حالیہ مقامی انتخابات میں بھی اتحادی تھیں اور 51.64 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

دریں اثناء، ایردوان نے دہشت گردوں کے ساتھ روابط رکھنے والے خلق ڈیموکریٹک پارٹی (HDP) کے چند PKK نواز میئرز کے اخراج پر بھی بات کی۔ "ترکی خاموش نہیں بیٹھ سکتا کہ دیاربکر، وان اور ماردین کے میئرز سرکاری خزانہ اپنے عوام پر خرچ کرنے کے بجائے جبلِ قندیل کے PKK دہشت گردوں کو بھیجیں۔”

دیاربکر، ماردین اور وان صوبوں کے میئرز – عدنان سلجوق میزراکلی، احمد ترک اور بیدیا اوزگوکچہ ایردان – کو دہشت گردی کی حمایت پر معطل کیا گیا۔ ریاست کے مقرر کردہ گورنرز عارضی طور پر ان معطل شدہ میئرز کی جگہ صوبوں میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

تبصرے
Loading...