ترکی کے جی ڈی پی میں نمو کا رحجان، عالمی بینک کی رپورٹ

0 87

عالمی بینک نے 2020ء کے لیے ترکی کی کُل مقامی پیداوار (جی ڈی پی) میں نمو کا رحجان ظاہر کیا ہے۔ ادارے کی نئی گلوبل اکنامک آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق ترک معیشت 2020ء میں 0.5 فیصد بڑھی ہے، جبکہ جون میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ یہ 3.8 فیصد تک سکڑے گی۔

رپورٹ اندازہ لگاتی ہے کہ عالمی معیشت 2021ء میں ذرا سی بحال ہوگی لیکن اسے 2020ء میں اچانک ملنے والے دھچکوں کے بعد کئی خطرات کا سامنا ہوگا۔ عالمی معیشت کو جس زوال کا سامنا ہے وہ 1945ء کے بعد بدترین ہے۔ دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے 1945ء میں عالمی معیشت 9.8 فیصد تک سکڑ گئی تھی اور 2020ء میں 4.3 فیصد کا زوال اس کے بعد دوسری بدترین کمی ہے۔ یہ کتنا بڑا نقصان ہے؟ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1930ء کی دہائی کی ‘عظیم کساد بازاری’ میں عالمی معیشت 1930ء سے 1932ء کے دوران اوسطاً 4.8 فیصد سکڑی تھی جبکہ 2008ء کے مالی بحران کی وجہ سے 2009ء میں عالمی پیداوار میں 1.8 فیصد کی کمی آئی تھی۔

بہرحال، 2021ء میں ترکی کے جی ڈی پی میں 4.5 فیصد کی نمو کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو 5 فیصد کی گزشتہ پیش گوئی سے ذرا کم ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ ایسا کووِڈ-19 کے نئے کیسز میں اچانک اضافے، بین الاقوامی سیاحت کے معمول سے کم ہونے اور زیادہ سخت مالیاتی پالیسی کی وجہ سے ہوا ہے۔ 2022ء میں معیشت میں 5 فیصد نمو کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

ترکی کے بہتر اقدامات کی بدولت اس کی معیشت تیسری سہ ماہی میں توقعات سے کہیں زیادہ، 6.7 فیصد تک، بڑھی، جبکہ گزشتہ تین ماہ کے دوران اس میں 9.9 فیصد کا زوال آیا تھا جو کرونا وائرس کی ابتدائی لہر کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا بھیانک اثر تھا۔ نمو میں یہ یکدم اضافہ گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 15 فیصد سے زیادہ کا ہے۔

انقرہ کے اپنے اندازے کے مطابق 2020ء میں وہ 0.3 فیصد کی نمو حاصل کرے گا لیکن بدترین حالات میں 1.5 فیصد تک سکڑنا بھی متوقع ہے۔ 2021ء یہ وہ 5.8 فیصد کی نمو کے اندازے پیش کرتا ہے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ امریکا میں 3.5 فیصد کی جی ڈی پی نمو دیکھنے کو ملے گی جبکہ چین میں 7.9 فیصد کی زبردست نمو ہوگی، جو دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں ہیں۔

تبصرے
Loading...