مہاجرین کا عالمی دن: ترکی دنیا بھر میں مہاجرین کا سب سے بڑا میزبان

0 1,125

ترکی نے دنیا بھر میں ہجرت پر مجبور افراد سے اظہارِ یکجہتی کا مطالبہ کرتے ہوئے مہاجرین کا عالمی دن منایا جبکہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 71 ملین کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔

"بھوک، تنازعات، خانہ جنگی اور غربت کے علاوہ موت کے خطرے سے بھاگنے والے ان افراد کی مدد انسان کی عظمت اور اس کے ضمیر کی آواز ہے۔” صدر رجب طیب ایردوان نے 20 جون کو عالمی یوم مہاجرین پر ایک پیغام میں کہا۔

مہاجرین کے حوالے سے عالمی برادری کے منفی رویّے پر تنقید کرتے ہوئے صدر ایردوان نے ذرائع ابلاغ اور معروف سیاست دانوں، بالخصوص مغربی ممالک کے، کی جانب سے بڑھتے ہوئے امتیاز، غیر ملکی باشندوں سے حقارت آمیز رویّے اور نسل پرستی کی مذقت کی۔

ایردوان نے کہا کہ ترکی 40 لاکھ سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، جن میں سے 36 لاکھ شامی مہاجرین ہیں۔ یہ دنیا میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ "ان کی نسل، مذہب اور زبان سے قطع نظر ترکی، ماضی کی طرح اب بھی، تمام مظلوم افراد کی حفاظت کرتا ہے۔ کسی کو بھی اپنے سیاسی مقاصد یا نظریاتی سوچ کے لیے مہاجرین کی مخالفت کرکے ترک عوام کی سخاوت پر سوال اٹھانے کی اجازت نہیں۔”

ایک بیان میں وزارت خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو "ان افراد اور ان کے میزبان ملکوں کے ساتھ کہیں زیادہ اظہارِ یکجہتی کرنا چاہیے کہ وہ یکساں بوجھ اور ذمہ داری اٹھا رہے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ عالمی یوم مہاجرین مہاجروں اور سیاسی پناہ کے خواہشمندوں کے حالات بہتر بنانے کا موقع ہوگا۔”

اس بیان میں بتایا گیا کہ تنازعات، قدرتی آفات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ "ہمارا ماننا ہے کہ یہ بین الاقوامی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو باوقار زندگی گزارنے کا موقع دینے کے لیے ایسے حالات بنائیں جو ان لوگوں کی اپنے وطن محفوظ واپسی کو یقینی بنائیں اور سیاسی پناہ لینے پر مجبور کرنے والے مسائل حل کریں۔”

ترکی میں موجود 40 لاکھ سے زیادہ مہاجرین کا حوالہ دیتے ہوئے اس بیان میں کہا گیا کہ "آج ہم انہیں مختلف شعبوں میں خدمات فراہم کر رہے ہیں خاص طور پر صحت، تعلیم اور لیبر مارکیٹ تک رسائی کی صورت میں، جو عالمی برادری کے لیے رہنما بن سکتی ہیں۔”

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق دنیا بھر میں جنگ، ظلم و ستم اور تشدد کی وجہ سے ریکارڈ 71 ملین افراد بے وطن ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 ملین یعنی 20 لاکھ زیادہ ہیں۔ یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ مہاجرین کو اگر ایک ملک دے دیا جائے تو وہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا 20 واں سب سے بڑا ملک ہوگا۔

تبصرے
Loading...