ترکوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ پُر شکوہ قوم ہے

0 3,450

اختلافات پر ایک دوسرے کو کاٹ کھانے والے ہجوم اور کسی قوم میں فرق جاننا ہو تو پاکستانیوں اور ترکوں کو دیکھئے- ہمارے یہاں بھی ڈالر کی قیمت بڑھتی ہے اور بڑھتے بڑھتے 124 پر پہنچ چکی ہے لیکن ہم ہمیشہ اس کو بنیاد بنا کر سیاسی مخالفین پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہیں- حتی کہ جب منتخب حکومت جا چکی تھی اور پورے دس روپے کا اضافہ ہوا تو ہمارے پاس اس سے نبٹنے کے لیے سوائے گالیوں اور لعنتوں کے کچھ نہیں تھا-
گذشتہ چند سالوں سے امریکہ اور ترکی کے تعلقات میں تناؤ بڑھ رہا تھا- گولن کی حوالگی، امریکہ کی طرف سے کرد دہشتگردوں کی حمایت، ایردوان کے سرکاری گاڈز پر مقدمات، ترکش بنک پر بھاری جرمانے، ویزا کی بندش اور پھر دو وزراء پر معاشی پابندیوں کے بعد اب ٹرمپ کی طرف سے ترکش برآمدات پر بھاری ڈیوٹی عائد کر کے جس طرح ترکش کرنسی "لیرا” کو مارکیٹ میں کریش کرنے کی کوشش کی گئی اس کا سب سے بڑا نتیجہ تو یہ نکلنا چاہیے تھا کہ ترک قوم ایردوان کو گالیاں نکال رہی ہوتی، کرپٹ کہہ رہی ہوتی اور استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہوتی- لیکن ترکوں نے حسب معمول ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ عقل سے کورا جذباتی ہجوم نہیں-


ترک اپوزیشن، سرمایہ کاروں کی تنظیموں اور ترک قوم اس کٹھن مرحلے پر ایردوان کے خلاف مہم جوئی کر کے ملک کو سیاسی انتشار کے حوالے کرنے کے بجائے ان کا ہر طرح سے ساتھ دینے کا اعلان کیا- ترک حکومت نے اعتماد کے ساتھ اقدامات اٹھائے اور ترکش لیرا مضبوط ہونا شروع ہو گیا- آج سے پانچ دن پہلے سی بی این سی ایردوان کا مذاق اڑا کر خبر دے رہا تھا ایک طرف ترک صدر نے کہا ہے "تمہارے پاس ڈالرز ہیں تو ہمارے پاس اللہ تعالیٰ ہے” اور دوسری طرف ڈالر 7.24 پر پہنچ گیا ہے-
ترک صدر ایردوان نے مختلف چھوٹے اقدامات کے ساتھ ساتھ امریکن الیکٹرونکس پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ دیا، آج درجنوں امریکن مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے- یار رہے کہ ترکی صرف ترکوں کی مارکیٹ ہی نہیں ہے، وہاں ہر سال کروڑوں غیر ملکی سیاح بھی جاتے اور خریداری کرتے ہیں- گذشتہ 24 گھنٹوں میں ترکش لیرا مسلسل مضبوط ہو رہا ہے- 7.24 سے 5.94 پر واپس پہنچ چکا ہے اور آئندہ 48 گھنٹے مزید ڈالر کی قدر میں کمی ہونے کی توقع ہے-
دوسری طرف امریکن چیمبر آف کامرس نے بیان دیا ہے کہ ترکش برآمدات کی قیمتوں میں اضافے سے امریکہ کو "شدید خطرات” کا سامنا ہے- اور وہ ٹرمپ کے اس فیصلے کو چیلنج کریں گے- دونوں حکومتوں کو چاہیے کہ اختلافات کو قیمتوں، پابندیوں اور بائیکاٹ کے بجائے مذاکرات سے حل کریں- یورپی یونین نے امریکی پابندیوں کو مسترد کر دیا ہے- اٹلی اور جرمنی نے ترکی کی کھل کر حمایت کی ہے- دوسری طرف اسلامی دنیا کے مسلمانوں نے اس موقع پر برصغیر کی خلافت تحریک کی یاد تازہ کر دی ہے- بعض عرب ممالک میں نوجوان ڈالر ہاتھوں میں کر بنکوں کے آگے لائن لگا کر ترکش لیرا خریدتے نظر آئے ہیں- دنیا بھر میں امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ دیکھا جا رہا ہے- بچاؤ کا کوئی بھی راستہ ترکش لیرا کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر دے گا-

تبصرے
Loading...