ادلب آپریشن: حلب سے ظلم کے مارے بھائیوں کو ادلب پہنچنے پر مرنے کے لیے نہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے، ایردوان

0 147

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے آق پارٹی کی 26ویں مشاورتی و جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "ہم ادلب کو تحفظ فراہم کرنے اور اپنے میدان کو وسعت دینے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو آپریشن فرات ڈھال سے حاصل کیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر ادلب میں ایک سنجیدہ آپریشن شروع ہوا ہے اور یہ جاری رہے گا کیونکہ ہم اپنے ان بھائیوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے جو حلب میں ظلم کے نتیجے میں بھاگ کر ادلب میں آئے تھے۔ انہیں مرنے کے لیے یہاں ان کے حال پر نہیں چھوڑیں گے”۔

بارزانی کے اردگرد حضرات کیا کر رہے ہیں؟

اپنے خطاب کے دوران ترکی اور خطے کے خلاف ہونے والی گھناؤنی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "یہاں شمالی عراق میں ہم دیکھتے ہیں کہ بارزانی کو فرانس کے سابق وزیر خارجہ اور برنارڈ ہنری جیسے صیہونیوں نے گھیر لیا ہے۔۔۔  انہوں نے میز پر صیہونی منصوبہ بندی رکھ کر کام شروع کر دیا ہے۔ ہم ان منصوبوں کو بالکل اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا کیا مطلب ہے اور ہم الرٹ رہیں گے۔ جب ہم عراق کی علاقائی سالمیت کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو اس میز کے ارد گرد کیا بات چیت کی جا رہی ہے؟ کئی لوگ اسے ابھارتے ہیں۔ یہ بہت دلچسپ ہے۔۔۔۔ اب انہوں نے اسے "چھوٹا اسرائیل” قرار دیا ہے۔ ہم اپنے قدم بہت متانت اور حکمت عملی سے اٹھائیں گے۔ ہم ان منصوبوں سے مکمل طور پر واقف ہیں اور انہیں کسی صورت موقع نہیں ملے گا۔ بارزانی کے اردگرد یہ حضرات کیا کر رہے ہیں؟ جب کہ یہاں ترکی ہے جس کی 350 کلومیٹر سرحد آپ کے ساتھ ملتی ہے، جو آپ کا دوست ہے، آپ بھائی ہے اور مشکل وقتوں میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوتا آیا ہے۔ آپ ترکی کو چھوڑ کر ان کے ساتھ منصوبہ بندی کیسے کر رہے ہیں؟ اس کی اجازت آپ کو کون دے گا؟ ہم سب اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ شمالی عراق کی مقامی حکومت کو مکمل طور پر اسرائیل مدد اور تعاون فراہم کر رہا ہے۔ ہم اسے ایک ایسی وجہ سمجھ رہے ہیں جس کا لازمی ایک اثر ہوگا”۔

آپ ان تمام مواقعوں سے محروم ہو جائیں گے جو آج آپ کے پاس ہیں

رجب طیب ایردوان نے کہا: "یہاں میں با آوازبلند اور صاف صاف کہتا ہوں، آج اس ذہنیت کے ساتھ کچھ بھی حاصل نہیں کر پاؤ گے۔ اس کا صرف ایک ہی نتیجہ نکلے گا۔ آپ واپس اس جگہ پر پہنچ جاؤ گے جہاں پہلے تھے اور اگر ایسا نہ ہوا تو آپ اکیلپن کی طرف چلے جاؤ گے اور ان تمام مواقعوں سے ہاتھ دھو بیٹھو گے جو آج آپ کے ہاتھ میں ہیں۔ جیسے ہم اپنے ملک میں کسی بھی آپریشن کی اجازت نہیں دیتے ہیں ہم اپنے ہمسایہ ملکوں کی علاقائی سالمیت کے خلاف کسی کو قدم اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ وہاں ہمارے بھائی، بہن، ہمارے رشتہ دار رہتے ہیں۔

ہم شامی سرحد پر دہشتگرد راہداری بنانے کی اجازت نہیں دیں گے

انہوں نے مزید کہا: "شام میں دفاعی بحران جس مرحلے پر پہنچ چکا ہے وہ اپنی وضاحت خود دے رہا ہے۔ آپ ہمارا موقف، اقدامات اور آپریشن کی صورت میں ہماری کارروائیوں سے واقف ہیں جب ہم نے انسانی المیوں کو حل کرنے کی طرف پیش رفت کی۔ ہمارے ملک کو ان معاملات سے علیحدہ کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ہمارے وزیراعظم، ہمارے وزراء اور خود میں نے بار بار اس بات کی وضاحت کی کہ یہ مسائل ہماری قومی سلامتی سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ ہم ادلب کو تحفظ فراہم کرنے اور اپنے میدان کو وسعت دینے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو آپریشن فرات ڈھال سے حاصل کیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر ادلب میں ایک سنجیدہ آپریشن شروع ہوا ہے اور یہ جاری رہے گا کیونکہ ہم اپنے ان بھائیوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے جو حلب میں ظلم کے نتیجے میں بھاگ کر ادلب میں آئے تھے۔ انہیں مرنے کے لیے یہاں ان کے حال پر نہیں چھوڑیں گے۔  ہم ضرور اپنا ہاتھ ان تک بڑھائیں گے اور اب ہم نے یہ قدم اٹھایا ہے اور اسے جاری رکھیں گے۔ ہم شامی سرحد پر دہشتگرد راہداری بنانے کی اجازت نہیں دیں گے

ابھی ترک فوجی ادلب میں نہیں ہیں

صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ایک سوال "آپ نے بتایا کہ ادلب میں ایک سنگین آپریشن ہو رہا ہے۔ کیا ہم بھی آپریشن فرات ڈھال کی طرح اس کارروائی میں شامل ہوں گے؟” صدر ایردوان نے جواب دیا: "آپریشن فرات ڈھال مکمل ہو چکا ہے۔ اس آپریشن کے نئے نام کا اعلان کیا جائے گا”۔ انہوں نے مزید بتایا کہ  یہ آپریشن فی الحال آزاد شامی فوج چلا رہی ہے اور ابھی ترک فوجی ادلب میں نہیں ہیں۔

ترک صدر نے بتایا کہ ترکی اور روس ادلب کی عوام کے حفاظت کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ ترکی ادلب کے اندر اقدامات اٹھائے گا جبکہ بیرونی سرحدوں پر روس ان اقدامات کو تحفظ دے گا۔

صدر ایردوان نے مزید کہا: "ہم ادلب میں رہنے والے لوگوں کے لیے حفاظتی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ اسد رجیم کے ساتھ معاملات روس کے ذریعے ہوں ہوں گے۔ جہاں تک ترکی کے خیالات ہیں ہم صرف اپنے خیالات پر اقدامات اٹھا رہے ہیں اور باقی موقف رکھتے ہوئے ہم یہ جاری رکھیں گے۔

تبصرے
Loading...