پاکستان، ہم تمہارے ساتھ ہیں!

حقی اوجال

0 2,501

صدر رجب طیب ایردوان رواں ہفتے ریکارڈ چوتھی مرتبہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے لیے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ دو روزہ دورے کے لیے ایردوان کی پاکستان آمد 13 فروری کو متوقع ہے۔ پاکستانی حکام نے، جن میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی شامل ہیں، صدر ایردوان کے دورۂ پاکستان پر بھرپور مسرت کا اظہار کیا ہے۔ اسد قیصر کا کہنا ہے کہ وہ ایردوان کے دورے کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کریں گے اور عہد کیا کہ قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں ایوان کے تمام اراکین موجود ہوں گے۔

یہ مسرت بے وجہ نہیں ہے۔ دراصل اِس کی کئی وجوہات ہیں۔ دونوں قوموں کے مابین طویل عرصے سے جاری برادرانہ تعلقات کے علاوہ کشمیر کے بحران پر پاکستان کو حال ہی میں اپنے روایتی اتحادیوں کے ہاتھوں مایوسی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ کشمیر واقعتاً ایک قید خانے میں تبدیل ہو چکا ہے اور وہاں حالات 1951ء کی نہج پر آ گئے ہیں۔

اُن بدترین ایام میں بھارت دعویٰ کرتا تھا کہ وہ زرعی اصلاحات اور بڑے پیمانے پر تعلیم کے منصوبے نافذ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے اسے اخبارات پر سخت سینسرشپ اور تمام مسلم ریڈیوز کی بندش کی ضرورت تھی۔ درحقیقت، اُس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہر نے کشمیر کو ایک قید خانے میں بدل دیا تھا۔ بھارتی حکومت نے ان معاہدوں اور قوانین کا خاتمہ کر دیا کہ جو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے جموں میں مسلمانوں کو حاصل تھے۔ گزشتہ سال بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک "نئے کشمیر” کا وعدہ کیا، لیکن درحقیقت پے در پے اور بڑھتی ہوئی پابندیوں کے ذریعے کشمیر کا گلا ہی گھونٹ دیا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے خطے کے مسلمانوں کے لیے انٹرنیٹ کی فراہمی بند کی اور دعویٰ کیا کہ "اسلامی ہجوم سوشل پلیٹ فارمز پر مظاہروں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔”

اس جملے میں اہم لفظ "اسلامی” ہی ہے اور اس لفظ کا استعمال ہی تھا کہ ابو ظہبی اور سعودی عرب پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کشمیر کے معاملے پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست پر سیخ پا ہو گئے۔ سعودی عرب نے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی قیادت ترکی سے حاصل کی ہے اور گزشتہ روز جدہ میں سینئر عہدیداروں کے ایک اجلاس میں پاکستان کی اِس درخواست کو مسترد کیا گیا۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ سعودی عرب کشمیر کا معاملہ وزرائے خارجہ کی کونسل میں نہیں اٹھائے گا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے ملائیشیا کے دورے میں مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کی خاموشی پر مایوسی کا اظہار کیا۔

یہی نہیں، گزشتہ سال سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں بھارت کو مدعو کرکے اسے بڑا تحفہ دے چکے ہیں۔ بھارت کی وزیر برائے امورِ خارجہ سشما سوراج نے ابوظہبی میں ہونے والے اجلاس میں متحدہ عرب امارات کی "شاہی مہمان” کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔

یہ بھارت کی ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی، کشمیر کے مسلمانوں پر سالہا سال تک مظالم کے باوجود۔ اس کے برعکس بھارت کی جانب سے قانونی معاہدوں کے خاتمے اور کشمیری عوام کو بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دینے والے قوانین کو توڑنے پر امّت کی جانب سے بھارت کو ایک واضح پیغام ملنا چاہیے تھا۔ لیکن جیسے ہی بھارت میں کشمیر میں انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خلاف اسلامی شدت پسندی کا نعرہ لگایا، ابو ظہبی کے ولی عہد اور دنیا بھر میں اسلامی طاقتوں کے خلاف کام کرنے والوں کے سرپرست شیخ محمد بن زاید مودی کے عزیز دوست بن گئے، ایک ایسے شخص کے جس پر اپنے ہی ملک میں نسل پرستانہ اقدامات کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اُن کے لیے اور ان کے سعودی ہم منصب محمد بن سلمان کے لیے نتیجہ پاکستان کو دھوکے اور مسئلہ کشمیر پر او آئی سی وزراء کو بات کرنے کی اجازت نہ دینے کی صورت میں نکلا، حالانکہ کشمیر گزشتہ سال اگست سے سکیورٹی کریک ڈاؤن اور انفارمیشن بلاکیڈ کی زد میں ہے۔ 12 ملین سے زیادہ مسلمان انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے باقی دنیا سے کٹے ہوئے ہیں۔ ہزاروں افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں اور بدنامِ زمانہ پیلٹ گن کے ہاتھوں اندھے ہو چکے ہیں۔

یہ ہے صدر ایردوان کے دورۂ پاکستان کا پسِ منظر اور یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور دیگر رہنما انہیں اسلام آباد میں دیکھ کر بہت خوش ہیں۔

اب جبکہ پاکستان کو او آئی سی میں اپنے نام نہاد بھائیوں نے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے، صدر ایردوان پاکستان کے لیے ترکی کی نیک تمناؤں کا ذکر کرتے ہیں اور اس خواہش کا اظہار بھی کہ وہ پاکستان کو ہمیشہ اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ پاکستان اور کشمیر میں مقیم ہمارے بھائیوں کو علم ہونا چاہیے کہ اُن پر نظر رکھنے والا ایک بھائی موجود ہے۔

تبصرے
Loading...