آپریشن شاخ زیتون: اب تک 3524 دہشتگرد ہلاک، مزید 12 علاقے آزاد

0 1,001

ترک جنرل اسٹاف کے مطابق شام کے علاقے عفرین میں ترک فوج کے جاری آپریشن شاخ زیتون میں اب تک 3524 دہشتگرد "بےاثر” ہو چکے ہیں۔

ترک فوج کی جانب سے "بے اثر” کا لفظ استعمال کرتی ہے جس میں گرفتار زندہ یا مردہ دہشتگرد شامل ہوتے ہیں یا پھر وہ جنہوں نے دوران جنگ ہتھیار ڈال دئیے ہوں۔ تاہم عمومی طور پر اس اصطلاح کا استعمال کسی آپریشن میں مرنے والوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

 ملٹری رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ عفرین آپریشن میں عفرین شہر کے 12 علاقے دہشتگردوں سے آزاد کروا لیے گئے ہیں۔
آپریشن شاخِ زیتون ترکی کی طرف سے شامی صوبہ عفرین میں پی کے کے/پی وائے ڈی/وائے پی جی/کے سی کے اور داعش کے دہشتگردوں کے خلاف 20 جنوری کو شروع کیا گیا تھا۔
ترک جنرل اسٹاف کے مطابق آپریشن کا مقصد ترک سرحدوں کے ساتھ خطے میں سیکورٹی اور استحکام قائم کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کے ظلم اور بربریت سے شامی عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ آپریشن بین الاقوامی قانون اور یو این سیکورٹی کونسل کے قراردادوں کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ترکی کے حقوق کے تحت ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کو اپنے دفاع کے لیے قدم اٹھانے کا حق ہے تاہم اس سلسلے میں شام کی سالمیت کا احترام کیا جائے گا۔
ملٹری نے کہا ہے کہ یہ بات "انتہائی اہمیت” رکھتی ہے کہ اس آپریشن میں کسی سویلین کو نقصان نہ پہنچے۔
تبصرے
Loading...