وائے پی جی کے ساتھ جو بھی فورس بنائی جائے وہ ترکی کی نظر میں "دہشتگرد فوج” ہی ہو گی، پروفیسر گل نور

0 9,879

ترک صدر رجب طیب ایردوان کی چیف ایڈوائزر پروفیسر گلنور ایبت نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ شام میں وائے پی جی کے ساتھ جو بھی فورس بنائی جائے وہ ترکی کی نظر میں "دہشتگرد فوج” ہی ہو گی۔

بی بی سی کے ریڈیو 4 کے پروگرام "دی ورلڈ ٹو نائٹ” میں انہوں نے ترکی کے عزم اور اپنی سرحدوں پر کسی دہشتگرد اکائی کو بننے سے روکنے کے لیے کئی جانے والی تیاریاں واضع کیں۔

کرد وائے پی جی کی قیادت میں بنائی جانے والی فورس بارے امریکی بیان کہ "یہ استحکام کے قیام کے لیے مقامی سیکیورٹی فورس ہو گی” پر پروفیسر گلنور نے کہا، "اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کہ وائے پی جی کے ساتھ مل کر کس مقصد کے لیے فوج بنائی جائے جائے، اسے دہشتگرد فوج کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا”۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نیورت کے (شامی خطے) آفرین بارے پیغام اور داعش کے خلاف جنگ پر توجہ دینے کی دعوت پر انہوں نے کہا، "ترکی جیسے اتحادی ملک کو ایسا کہنا غیر ضروری اور بے انصافی ہے۔ جس نے اکیلے کئی علاقے داعش سے خالی کروائے ہیں”۔

انہوں نے بی بی سی رپورٹر مارک لووان پر بھی تنقید کی جنہوں نے دوران انٹرویو کرد دہشت گرد تنظیم پی کے کے کو "ایک کالعدم عسکریت پسند گروپ” کہہ کر سوال کیا۔ پروفیسر گلنور نے انہیں یاد دلایا کہ امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے کرد پی کے کے کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔

تبصرے
Loading...