شام میں اجتماعی قبر دریافت، ‏YPG/PKK نے 61 لاشیں دفنائی تھیں

0 461

‏PKK دہشت گرد گروپ کی شامی شاخ YPG کے ہاتھوں شام میں انسانیت کے خلاف ایک اور سنگین جرم کا پتہ چلا ہے۔

وزارتِ دفاع کے مطابق اطلاع ملی تھی کہ ‏YPG/PKK کے دہشت گردوں نے جنوری 2018ء میں شمالی شام کے علاقے عفرین کے نواح میں ایک خالی قطعہ زمین پر لاشیں دفنائیں تھیں، جس کے بعد اس علاقے میں کھدائی گئی۔ جس کے نتیجے میں بوری بند 35 لاشیں ملیں۔ خدشہ ہے کہ اس علاقے میں مزید لاشیں بھی دفنائی گئی ہیں۔

وزارت کے برعکس ترکی کے جنوبی صوبہ خاتائی کے گورنر کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والی لاشوں کی تعداد 61 تک پہنچ گئی ہے۔

YPG کے مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے مقامی عرصہ دراز سے ان کے مظالم کا نشانہ تھے۔ دہشت گرد گروپ شام میں مظالم کا بھیانک ریکارڈ رکھتا ہے کہ جن میں اغوا سے لے کر بچوں کی جبری بھرتی، تشدد، نسلی بنیادوں پر قتلِ عام اور جبراً گھروں سے بے دخل کرنا شامل ہیں۔ مئی میں جاری کی گئی اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق YPG عرصے سے بچوں کو لڑنے کے لیے بھرتی کر رہی ہے اور گزشتہ دو سال کے دوران کم از کم 400 بچے بھرتی کیے ہیں۔

بین الاقوامی قوانین کے مطابق 18 سال سے کم عمر کے کسی بھی شخص کو بھرتی کرنا منع ہے اور 15 سال سے کم عمر بچوں کو شامل کرنا تو جنگی جرم شمار ہوتا ہے۔ اس کے باوجود YPG کی جانب سے بچوں کے استعمال کے دستاویزی ثبوت بارہا سامنے آئے ہیں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے اس حوالے سے تنقید کر چکے ہیں۔

ترکی کا ہدف ہے کہ YPG کو شمالی شام میں ایک خود مختار علاقہ بنانے سے روکے کہ جس کی سرحدیں ترکی کے ساتھ ملتیں اور یہ شمال مغرب میں عفرین سے لے کر شمال مشرق میں عین العرب اور جزیرہ کے علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ انقرہ اس علاقے کو "دہشت گردوں کی راہ داری” کہتا ہے کہ جو اس کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا حامل ہے۔

ترکی کے خلاف اپنی 40 سال سے زیادہ کی دہشت گردانہ مہم کے دوران PKK خواتین اور بچوں سمیت 40,000 افراد کی موت کی ذمہ دار ہے۔ اسے ترکی، امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔

البتہ امریکا نے داعش کے خلاف جنگ میں اس کی شامی شاخ YPG کے ساتھ اشتراک کیا۔ ترکی نے شمالی شام میں اِس دہشت گرد گروپ کی موجودگی اور اس کی پشت پناہی کی مخالفت کی تھی، اور یہی بات امریکا اور ترکی کے تعلقات میں دراڑ کی اہم وجہ ہے۔ انقرہ YPG کے لیے امریکی حمایت کا عرصے سے مخالف ہے کیونکہ یہ گروہ ترکی کے لیے خطرہ ہے اور دہشت گردی پھیلانے، مقامی لوگوں کے گھر تباہ کرنے اور انہیں بے دخل کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

داعش کے خلاف لڑائی کے تناظر میں امریکا نے اپنے نیٹو اتحادی ترکی کے خدشات کے باوجود YPG کو فوجی تربیت اور بھاری فوجی امداد فراہم کی۔ اس پر زور دیتے ہوئے کہ ایک دہشت گرد گروہ سے نمٹنے کے لیے کوئی ملک دوسرے دہشت گرد کی مدد نہیں کر سکتا، ترکی نے اپنے انسداد دہشت گردی آپریشن کا آغاز کیا، جس کے دوران اس نے خطے سے دہشت گردوں کا بڑے پیمانے پر خاتمہ کیا۔

تبصرے
Loading...