وائی پی جی نے ترکی پر حملے کے لیے داعش کے دہشت گردوں کو رہا کیا ہے، ترک وزیر خارجہ

0 313

ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے کہا ہے کہ پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) نے آپریشن چشمہ امن کے دوران ترکی پر حملے کے لیے شمالی شام میں داعش کے دہشت گردوں کو رہا کیا ہے اور انہیں سرمایہ بھی عطا کیا ہے۔ آپریشن چشمہ امن پر مغربی ممالک کا منفی ردعمل اس لیے سامنے آیا ہے کیونکہ وہ ترکی کی جنوبی سرحدوں کے ساتھ ایک دہشت گرد گروپ یعنی پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کے قیام کی مایوس کن کوششیں کر رہے تھے۔

"آج جو ملک ترک آپریشن پر ردعمل ظاہر کر رہے ہیں، ذرا انہیں دیکھیں، خاص طور پر فرانس کو کہ جس کا ہدف یہاں ایک دہشت گرد تنظیم کی جڑیں مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے عملی طور پر یہاں اور ملحقہ علاقوں میں کافی سنجیدہ کام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہم پر اتنے حملہ آور ہیں۔ ان کے لیے یہ بات مایوس کُن ہے کہ ہم نے ان کے بنے بنائے کھیل کو بگاڑ دیا۔” انہوں نے کہا۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی واشنگٹن کی جانب سے کسی بھی قسم کی پابندی عائد کیے جانے پر ردعمل دکھائے گا۔ ترکی امریکی کانگریس سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی "نقصان دہ حکمت عملی” کو چھوڑ دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انقرہ اور واشنگٹن کے مابین تعلقات ایک نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں اور وہ امریکی نائب صدر مائیک پینس کی انقرہ آمد کے موقع پر امریکی وفد کو یہ پیغام پہنچائیں گے۔

چاؤش اوغلو بدھ کو امریکی قومی سلامتی مشیر رابرٹ او برائن سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اوبرائن پینس اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ انقرہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ پینس ممکنہ طور پر جمعرات کو آپریشن چشمہ امن کے حوالے سے مذاکرات کے لیے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کریں گے۔

ترکی نے شمالی شام میں داعش اور PKK کی شامی شاخ پیپلز پروٹیکشن یونٹ (YPG) کے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لیے سرحد پار انسداد دہشت گردی آپریشنز کے سلسلے کا تیسرا مرحلہ آپریشن چشمہ امن 9 اکتوبر کی شام 4 بجے شروع کیا۔

ترکی بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے یہ آپریشن کر رہا ہے، جس کا ہدف دریائے فرات کے مشرقی علاقے میں دہشت گردوں سے پاک ایک سیف زون کا قیام اور وہاں شامی باشندوں کی واپسی کو ممکن بنانا ہے کہ جو اس وقت امریکا کی پشت پناہی سے کام کرنے والی شامی جمہوری افواج (SDF) کے قبضے میں ہے کہ جن میں سب سے بڑی اکثریت YPG کے دہشت گردوں کی ہے۔

PKK – جسے ترکی، امریکا اور یورپی یونین دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں – نے 30 سے زیادہ سالوں سے ترکی کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے جس کا نتیجہ تقریباً 40,000 لوگوں کی اموات کی صورت میں نکلا ہے، جن میں عورتیں، بچے بلکہ شیرخوار تک شامل ہیں۔

تبصرے
Loading...