وائے پی جی داعش کے قیدیوں کو ترکی کے خلاف عفرین میں استعمال کر رہی ہے، ایردوان

0 966

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ وائے پی جی نے رقعا سے پکڑے جانے والے داعش کے قیدیوں کو اس شرط پر رہا کر دیا ہے کہ وہ ترکی کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ دیں گے۔

انہوں نے کہا، "اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ وہ تمام ایک جیسے ہیں۔ وہ دہشتگرد گروپ ہیں جو ایک ہی منظرنامے میں مختلف کردار ادا کرتے ہیں”۔

صدر ایردوان نے چوالیسویں  کونسلروں کے اجلاس سے خطاب میں کہا  ہےکہ شام کے علاقے عفرین کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لئے ترک مسلح افواج کی طرف سے شروع کیا گیا آپریشن کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

علاقے کے حقیقی مالکان اور ترک مسلح افواج پر مشتمل یونٹیں قدم بہ قدم عفرین کو اپنے کنٹرول میں لے رہی ہیں۔ مسلح کی جانے والی دہشت گرد تنظیم کے آخری دہشت  گرد کے خاتمے تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔ ہمارا سرحدی دفاع بلا مبالغہ اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو نشانہ بنانے والے سرحد پار خطرات اہم ہیں اور ہم شام  میں اپنے عرب، کرد اور ترکمانی بھائیوں کے مستقبل کو بھی اتنا ہی اہم سمجھتے ہیں جتنا کہ اپنے مستقبل کو۔ بعض حلقوں نے فتنے کی ہنڈیا پکائی ہے اور چاروں طرف سے حملے کر رہے ہیں۔ اس آپریشن کو عفرین کے ہمارے کرد بھائیوں  کے خلاف دکھا کر ہمیں قبضے کا قصور وار ٹھہرا رہے ہیں۔

فرات ڈھال آپریشن کے ذریعے دہشتگردوں سے پاک کئے جانے والے علاقے میں  ایک لاکھ سے زائد شامیوں کے بسائے جانے اور عفرین میں بھی اسی سے مشابہہ کاروائی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ہم پہلے دہشتگردوں کی جڑوں کو خشک کریں گے اس کے بعد ان علاقوں کو قابل رہائش حالت میں لائیں گے اور ایسا ہم کن کے لئے کریں گے؟ ترکی میں مہمان بنائے ہوئے 3.5 ملین شامی مہاجرین کے لئے ۔

امریکہ کے سابق  صدر باراک اوباما کے دور میں ترکی کے منبج کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی خاطر ایک امن آپریشن کی یاد دہانی کرواتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ افسوس  کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اوباما نے ہمیں دھوکہ دیا اور اپنے وعدے پر برقرار نہیں رہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ہم اپنے وعدے پر قائم رہے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم منبچ میں داخل ہو کر علاقے کو وہاں کے رہائشیوں کے حوالے کریں گے۔ لیکن انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ان کے ارادے کچھ اور تھے ۔ ان کا ارادہ وہاں دہشت گرد حکومت قائم کرنا تھا۔

عفرین میں تمام انسانیت کی دشمن ذہنیت کے خلاف  جدوجہد کئے جانے  پر زور دیتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ آپریشن شاخِ زیتون میں ہمارے  فوجی شہید اور زخمی ہوئے ہیں ۔آزاد شامی فوج اور ترک مسلح افواج کے شہداء کو ملا کر اگر ہماری طرف سے 7 یا 8 فوجی شہید ہوئے ہیں تو 4 دن کے اندر دوسری طرف سے 268 دہشتگرد ہلاک کئے جا چکے ہیں۔ یہ آپریشن پُر عزم شکل میں جاری رہے گا اور ہم دہشت گردوں کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں گے۔

تبصرے
Loading...