استنبول میں بلدیاتی انتخابات کے دوبارہ انعقاد کا حکم

0 1,254

ترکی کی سپریم الیکشن کونسل (YSK) نے استنبول میں ہونے والے مقامی انتخابات کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ کرلیا ہے، حکمران ترقی و انصاف پارٹی (آق پارٹی) کے YSK نمائندے رجب اوزیل نے بتایا۔

YSK نے چار کے مقابلے میں سات ووٹوں سے اِس فیصلے کے حق میں ووٹ دیا اور استنبول میں میئر کے لیے ہونے والے گزشتہ انتخابات کو منسوخ قرار دے دیا۔ نئے انتخابات اب 23 جون کو ہوں گے۔

انتخابات کے انعقاد کے ذمہ دار اس اہم سرکاری ادارے نے ضلعی الیکشن کونسل کے چیئرمین اور اراکین، الیکشن مینیجرز اور دیگر افراد کے خلاف فوجداری مقدمات دائر کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے کہ جو پولنگ عملے کی غیر قانونی تقرری کے ذمہ دار ہیں۔

اوزیل نے کہا کہ فیصلہ 31 مارچ کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کی غیر دستخط شدہ دستاویزات اور چند بیلٹ بیکس عہدیداروں کے سرکاری ملازم نہ ہونے کی بنیاد پر کیا گیا۔ "اس فیصلے کے ساتھ ہمارا دوبارہ انتخابات کروانے کا مطالبہ درست ثابت ہوا،” انہوں نے کہا۔

YSK نے استنبول کے مال تپہ اور بیوک چکمجہ اضلاع میں انتخابی نتائج پر اعتراضات کو بھی مسترد کردیا۔

کونسل نے حزبِ اختلاف کی اہم جماعت جمہور خلق پارٹی (CHP) کے اکرم امام اوغلو کو جاری کردہ میئر کا سرٹیفکیٹ بھی منسوخ کردیا ہے۔ 17 اپریل کو صوبائی الیکشن کونسل نے امام اوغلو کو میئر کی حیثیت سے باضابطہ مینڈیٹ دیا تھا، جس میں آق پارٹی کے امیدوار سابق وزیر اعظم بن علی یلدرم کے خلاف کامیابی کی تصدیق کرنے والا سرٹیفکیٹ بھی شامل تھا۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق انہوں نے تقریباً 13,000 کے معمولی فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔

CHP منگل کو پارٹی رہنما کمال کلچ دار اوغلو کی زیر قیادت ایک غیرمعمولی اسمبلی اجلاس منعقد کرے گی۔ صدر رجب طیب ایردوان نے سوموار کو پارٹی ہیڈکوارٹرز میں پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو بورڈ (MYK) کے غیر معمولی اجلاس کی صدارت کی۔

لاکھوں ترکوں نے 31 مارچ کو مقامی انتخابات میں اگلے پانچ سال کے لیے میئرز، سٹی کونسل اراکین اور دیگر عہدیداروں کے انتخاب کی خاطر ملک کے طول و عرض میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

استنبول میں انتخابات، کہ جہاں نیشنل الائنس کے امیدوار اکرم امام اوغلو کو صرف 13,729 ووٹ کی برتری سے کامیاب قرار دیا گیا تھا، کے بعد زبردست بحث، اعتراضات، بے ضابطگیوں اور غیر قانونی اقدامات کے الزامات نے جنم لیا کہ جن کی وجہ سے انتخابات کے دوبارہ انعقاد کے مطالبے ہوئے۔ انتخابات کے بعد آق پارٹی نے استنبول میٹروپولیٹن میونسپلٹی، مال تپہ میونسپلٹی اور بیوک چکمجہ میونسپلٹی میں انتخابات کی منسوخی اور دوبارہ انعقاد کے لیے YSK میں غیر معمولی اعتراضات جمع کروائے۔

آق پارٹی کا غیر معمولی اعتراض چار حوالوں سے تھا: ووٹ کاؤنٹ شیٹس میں بے ضابطگیاں، رجسٹرڈ ووٹرز اور ووٹنگ بیلٹس کی تعداد میں واضح فرق، چند بیلٹنگ کمیٹی چیئرمین اور اراکین کا قانونی تقاضوں کے برعکس سرکاری ملازم نہ ہونا اور پولنگ کے دوران جعلی ووٹرز کا شریک ہونا۔ آق پارٹی کے مطابق پیش کردہ نتائج میں گیلے دستخطوں اور مہروں کے ساتھ بڑی بے ضابطگیاں تھیں، جن میں پہلے ووٹ کا ریکارڈ، حتمی ریکارڈ اور جمع کروائے گئے ووٹوں کی کل تعداد YSK میں جمع کروائی گئی۔ خالی اور غیر دستخط شدہ ووٹنگ ریکارڈز اور ووٹرز کی غیر قانونی رجسٹریشنز بھی تھیں۔

بے ضابطگیوں کی ان تحقیقات نے پایا کہ بیلٹنگ کمیٹیوں کے درجنوں اراکین کا تعلق گولن ٹیرر گروپ (FETO) سے تھا، وہ گروہ کہ جو ترکی میں 2016ء کی ناکام بغاوت کی پشت پر تھا۔

مبینہ طور پر 43 کمیٹی اراکین کا تعلق FETO سے پایا گیا، 41 کو بینک آسیا کا صارف پایا گیا جو FETO سے تعلق رکھنے والا بینک ہے، دو ByLock کے صارف تھے، جو اس دہشت گرد گروپ کی انکرپٹڈ میسیجنگ ایپ ہے اور دو FETO سے تعلق رکھنے والی لیبر یونینز کے رکن تھے۔

تبصرے
Loading...