ڈرامہ سریل یونس ایمرے

Yunus_Emre

0 582

یہ چودہویں صدی کی بات ہے کہ اناطولیہ میں سلجوقوں کی باقیات سلاجقہ روم کے عنوان سے برسراقتدار تھی۔ انکی شمالی سرحد پر صلیبی بیٹھے تھے تو مشرق میں بغداد کو خلیفہ سمیت اکھاڑ پھینکے والے تاتاریوں نے طوفان کھڑا کر رکھا تھا۔ یوں مسلمانوں کی قوت و شوکت اور مسلم فرمان رواؤں کا وہ پہلے سا جاہ و جلال قصے کہانیوں تک محدود ہوچکا تھا۔

پایہ تخت قونیا میں مولانا جلال الدین رومی کی خانقاہ تھی جہاں گرد و پیش کے حالات سے قطع نظر ہر روز معرفت کی محفل سجتی، مراقبے کی خاموشی چھاتی، زکر کی گونج سے در و دیوار لرزتے اور اور پھر رقص بے خودی میں آتش عشق بڑھک اٹھتا تھا۔ رومی ثانی کہلائے جانے والے یونس ایمرے تصوف سے بیزار تھے، انہوں نے قونیہ میں خود کو علم کی گھتیں سلجھانے اور شریعت کے مسئلے سمجھنے میں مصروف رکھا۔ مدرسے سے فارغ ہوئے تو قاضی کا منصب دیکر قونیا سے دور مضافاتی قصبے میں بھیج دئے گئے۔ شہر پناہ میں تصوف سے بھاگنے اور رومی سے متاثر نہ ہونے والا قاضی مگر پہاڑوں میں ایک صوفی چرواہے تاپتک ایمرے کو دل دے بیٹھا۔

پہلے تاپک ایمرے یونس کے پیچھے بھاگتا تھا اور اب یونس تاپک ایمرے کے پیچھے ایسا بھاگنے لگا کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ یونس سے یونس ایمرے ہوگیا۔ پہلے مقام قضاء کو ٹھکرا کر صوفی ہوا اور پھر حکمت کی باتوں کو شعر کے روپ میں ڈھالنے لگا۔ کہتے ہیں کہ رومی اور یونس ایمرے ایک ہی کشتی کے دو سوار تھے مگر دونوں میں فرق صرف انداز تخاطم کا تھا۔ رومی نے ترک اشرافیہ میں رائج فارسی زبان کو اختیار کیا اور ایمرے چراگاہوں میں بولی جانے والی قدیم ترکی میں گویا ہوئے۔ یوں جہاں رومی کا فلسفہ جلد ہی قونیا کے دربار سے ہوتا ہوا ایران اور ہندوستان تک پھیل گیا وہیں ایمرے کے گیت خانہ بدوشوں کی خوشی غمی کا حصہ بن گئے۔ آج قریب نو سو سال گزرگئے ہیں اور بات ٹھیک وہی ہے۔

ترکی کے سرکاری چینل پر چلنے والی مقبول سیریز "یونس ایمرے” ترکوں کے اسلامی تصوف، عارفانہ کلام اور لوک گیتوں سے دیرینہ اور توانا تعلق کا ایک مظہر ہے۔ جہاں یہ ڈرامہ یونس ایمرے کی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں وہیں جابجا اسکا موضوع شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کے مابین قدیم بحث کے پیچھے بھی گھومتا نظر آتا ہے۔ آخر کس طرح ظاہر پر یقین رکھنے والا قاضی سرکاری عہدہ اور پرآسائش زندگی چھوڑ کر درگاہ کا رخ کرتا ہے، آخر وہ کیا بات ہوتی ہے کہ کتابوں کی کتابیں حفظ کرلینے والا بندہ ہر سوال پر ‘مجھے نہیں معلوم” کہتا سنا جاتا ہے۔ آخر وہ کونسے حالات ہوتے ہیں کہ شاعری کو گمراہی سمجھنے والا کتابی بندہ جنگ قوس دگ کا مرثیہ لکھتا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اسلامی تصوف پر اس سے پہلے کبھی کوئی اتنا شاندار ڈرامہ بنایا گیا ہو۔

یہ ڈرامہ یوٹیوب اور فیس بک پر اردو اور انگریزی سب ٹائٹل کیساتھ موجود ہے۔ اگر آپ تصوف سے وابستہ خیالات اور حکمت کی باتوں پر یقین رکھتے ہیں تو مزید وقت ضائع کئے بغیر اس پیشکش کا فائدہ اٹھائیں۔

تبصرے
Loading...