جیل سے نکلنے اور سزا میں کمی کے لیے جھوٹ بولا، ترکی کے خلاف چال کے جھوٹے گواہ کا راز آشکار

0 474

عدالتی رپورٹر پیٹر برش نے سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر دفاع کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترک نژاد ایرانی سونے کے تاجر رضا ضراب جو امریکا میں ایران کے خلاف لگائی گئی امریکی معاشی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پرامریکا میں مقدمہ بھگت رہے ہیں نے ستمبر 2016میں اس خطرے کا اظہارکیا تھا کہ انہیں جیل سے رہائی یا سزا میں کمی کے لئے جھوٹ بولنا پڑ سکتا ہے۔

انکے خلاف منی لانڈرنگ اور دیگر مقدمات ان پابندیوں کے زیر اثر بنائے گئے ہیں جو اب ہٹائی جا چکی ہیں۔

انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ محمد حقان عطیلا کی یاداشتوں سے ایک متجسس خط  کچھ گھنٹوں قبل منظرعام پر آیا اور پھر غائب ہو گیا۔ عطیلا کے وکیل نے جج برمن کو بتایا کہ امریکی استغاثہ نے ملزم کے خلاف پیش کئے گئے غلط شوا ہدات کو بروقت خارج نہ کرکے مبینہ طور پر غفلت برتی۔

ضراب ا ب محمد حقان عطیلا (ترکی کے قومی ہالک بنک کے ڈپٹی سی ای او) کے خلاف چلنے والے مقدمے میں بطور استغاثہ کے گواہ پیش ہو کر اعتراف جرم کر چکے ہیں ۔

برش نے دفاع کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ستمبر 2016 میں جیل میں ملاقات کے دوران ضراب نے مبینہ طور پر اس خطرے کا اظہار کیا تھا کہ شائد انہیں جیل سے باہر آنے کے لئے یا اپنی سزا میں کمی کے لئے جھوٹ کا سہارا لینا پڑا۔ محمد حقان عطیلا کی ٹیم کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ ضراب شواہد  توڑمروڑکر پیش کرنے پر رضامند تھے۔

رپورٹر کے مطابق عطیلا کی ٹیم کا کہنا ہے کہ استغاثہ نے جج برمن کے 28/11کے احکامات کی خلاف ورزی کی جس میں انہوں نے تمام غلط شوا ہد خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا نہ کرنا عطیلا کے مطلوبہ قانونی حق استعمال کرنے کی خلاف ورزی شمار ہو گا۔

دفاع کے وکیل وکٹر روککو نے اپنی بحث کے آغاز میں ہی ضراب کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کیس حقیقتا ضراب کے جرائم کے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضراب نے جیل سے باہر آنے کے لئے ساز باز کی اور امریکا کے حفاظتی پروگرام برائے گواہان میں مبینہ شمولیت کی تاکہ وہ اور انکا خاندان امریکا میں رہائش اختیار کر سکیں ۔

عطیلا جنہیں مارچ 2017میں امریکا میں ضراب کے ساتھ شامل جرم ہونے کے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا تھا نے اعتراف جرم نہیں کیا ۔ضراب ہفتوں عدالت سے غیر حاضر رہے جس سے اس افواہ کو تقویت ملی کہ انہوں نے امریکی حکام سے ڈیل کر لی ہے اور وہ امریکیوں سے تعاون کر رہے ہیں۔

استغاثہ نے منگل کو عدالت کو بتایا کہ ضراب ڈیل کے تحت عدالت میں پیش ہو کر گواہی دیں گے مگر اس بابت کوئی مزید تفصیل سامنے نہ آسکی۔  رپورٹ: سعد سلطان

اس معاملے پر یہ تحریر بھی پڑھیں: خود ساختہ شواہد؛ فیتو کا حامی جج؛ ترک سالمیت کے خلاف میدان تیار: ضراب کیس

تبصرے
Loading...